بلایاژ اور ہائی لائٹس میں فرق کیا ہے؟
روایتی ہائی لائٹس میں بالوں کی باریک لٹیں فوائل میں لپیٹ کر جڑ سے سرے تک ہلکی کی جاتی ہیں۔ نتیجہ یکساں اور واضح ہوتا ہے، مگر جڑ سے شروع ہونے کی وجہ سے چار سے چھ ہفتے بعد لکیر نظر آنے لگتی ہے۔
بلایاژ میں رنگ برش سے آزادانہ لگایا جاتا ہے، سرے کی طرف زیادہ اور جڑ کی طرف کم۔ نتیجہ ایسا لگتا ہے جیسے بال دھوپ میں قدرتی طور پر ہلکے ہوئے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بلایاژ کو تین سے چار مہینے تک ٹچ اپ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
کام کے لحاظ سے بلایاژ زیادہ محنت طلب اور تخلیقی ہے، اس لیے اس کی قیمت عام ہائی لائٹس سے زیادہ ہوتی ہے اور نتیجہ تکنیشن کے ہاتھ پر بہت زیادہ منحصر ہے۔
پاکستان میں بلایاژ کے نرخ کیا ہیں؟
اسلام آباد کے لیے عام طور پر بتائی جانے والی حد لمبائی کے حساب سے یوں ہے: چھوٹے بالوں پر 8,000 سے 18,000 روپے، درمیانے بالوں پر 15,000 سے 30,000 اور لمبے یا گھنے بالوں پر 25,000 سے 65,000 روپے۔ یہ فرق پروڈکٹ اور وقت دونوں کا ہے۔
کراچی میں سیلون کے شائع شدہ نرخوں میں رنگ کی خدمات 4,000 روپے سے شروع ہوتی ہیں، جن میں فل کلر، ہائی لائٹس، بلایاژ اور ٹوننگ شامل ہیں، مگر حتمی قیمت لمبائی اور گھنائی دیکھ کر بتائی جاتی ہے۔ بانڈ بچانے والا اضافی علاج، جیسے ویلاپلیکس، تقریباً 3,000 روپے مزید لیتا ہے۔
قیمت پوچھتے وقت تین چیزیں الگ الگ پوچھیں: بلیچ اور ایپلیکیشن، ٹونر، اور بلو ڈرائی۔ کئی جگہ ٹونر شامل ہوتا ہے اور کئی جگہ نہیں، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں آخری بل توقع سے بڑھ جاتا ہے۔
بلایاژ گہرے پاکستانی بالوں پر کیسا آتا ہے؟
قدرتی کالے یا گہرے بھورے بالوں پر بلایاژ کو کاراملی، شہد جیسے یا تانبے کی طرف مائل شیڈ میں رکھنا سب سے قدرتی نتیجہ دیتا ہے۔ اس سطح تک پہنچنے کے لیے ایک ہی سیشن اکثر کافی ہو جاتا ہے۔
اگر آپ راکھی یا ٹھنڈا بلایاژ چاہتی ہیں تو راستہ لمبا ہے، کیونکہ گہرے بال بلیچ ہونے پر پہلے نارنجی اور پھر پیلے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ ان مرحلوں کو دبانے کے لیے ٹونر لازمی ہے، اور وہی ٹونر ہر چھ سے آٹھ ہفتے میں دھل جاتا ہے۔
لہریے اور گھنگھریالے بالوں پر بلایاژ خاص طور پر اچھا لگتا ہے کیونکہ لہر روشنی کو توڑ کر رنگ کو گہرائی دیتی ہے۔ بالکل سیدھے بالوں پر تکنیشن کو زیادہ محتاط رہنا پڑتا ہے، ورنہ لگائے گئے حصے دھاریوں کی طرح نظر آتے ہیں۔
بلایاژ کی دیکھ بھال میں کیا لگتا ہے؟
سب سے بڑی بچت وقت کی ہے: جڑیں تین سے چار مہینے تک بغیر لکیر کے بڑھتی رہتی ہیں۔ اس دوران اصل خرچ ٹونر اور بانڈ ٹریٹمنٹ پر آتا ہے، جو ہر چھ سے آٹھ ہفتے مانگا جا سکتا ہے۔
گھر پر تین عادتیں نتیجے کی عمر بڑھاتی ہیں: سلفیٹ سے پاک شیمپو، ہفتے میں ایک بار گہرا ماسک، اور بہت گرم پانی سے پرہیز۔ کراچی کی نمکین ہوا اور تیراکی کے پول کا کلورین بلیچ شدہ سروں پر جلدی اثر دکھاتے ہیں، اس لیے تیراکی سے پہلے بالوں کو صاف پانی سے بھگو لینا مفید ہے۔
سیلون جانے سے پہلے کیا کریں؟
بلایاژ ایسی سروس ہے جہاں دونوں فریق مختلف تصویر ذہن میں رکھتے ہیں۔ ایک ہی لفظ سے کوئی نرم، بمشکل نظر آنے والا اثر سمجھتا ہے اور کوئی واضح دو رنگی نتیجہ۔
Visio میں اپنی سیلفی پر بلایاژ کے دو تین درجے دیکھ لیں - ہلکا کاراملی، گہرا شہد جیسا اور راکھی - اور دن اور رات دونوں روشنیوں میں پرکھیں۔ منتخب تصویر کلر ٹیکنیشن کو دکھائیں اور صاف پوچھیں کہ آپ کے موجودہ بالوں سے وہاں تک پہنچنے میں کتنے سیشن لگیں گے اور بالوں کی حالت اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بلایاژ کا ٹچ اپ کتنے عرصے بعد چاہیے؟
عام طور پر تین سے چار مہینے، کیونکہ رنگ جڑ سے فاصلے پر شروع ہوتا ہے۔ ٹونر البتہ ہر چھ سے آٹھ ہفتے میں دھل جاتا ہے اور اسے دہرانا پڑ سکتا ہے۔
اسلام آباد میں بلایاژ کتنے کا پڑتا ہے؟
بتائی جانے والی عام حد چھوٹے بالوں کے لیے 8,000 سے 18,000 روپے، درمیانے کے لیے 15,000 سے 30,000 اور لمبے یا گھنے بالوں کے لیے 25,000 سے 65,000 روپے ہے۔
کیا بلایاژ سے بال خراب ہوتے ہیں؟
اس میں بلیچ استعمال ہوتا ہے، اس لیے کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے۔ چونکہ جڑ چھوڑ دی جاتی ہے، نقصان فل بلیچ سے کم ہوتا ہے۔ بانڈ بچانے والا علاج، جو کراچی میں تقریباً 3,000 روپے اضافی ہے، اسے نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔
کیا کالے بالوں پر بلایاژ اچھا لگتا ہے؟
بہت اچھا، بشرطیکہ شیڈ گرم رکھا جائے - کاراملی، شہد جیسا یا تانبے کی طرف مائل۔ ٹھنڈے راکھی شیڈ تک پہنچنے میں زیادہ بلیچ اور اکثر ایک سے زیادہ سیشن لگتے ہیں۔
بلایاژ اور اومبرے میں کیا فرق ہے؟
اومبرے میں اوپر سے نیچے تک ایک واضح تدریج ہوتی ہے اور سرے نمایاں طور پر ہلکے ہوتے ہیں۔ بلایاژ میں ہلکے حصے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، جس سے نتیجہ زیادہ قدرتی لگتا ہے۔

