پلاٹینم تک پہنچنے میں کیا لگتا ہے؟
پلاٹینم کے لیے بالوں کو تقریباً آخری سطح تک ہلکا کرنا پڑتا ہے، یعنی ہلکے پیلے سے بھی آگے، اور پھر ٹھنڈے ٹونر سے پیلاہٹ دبانی پڑتی ہے۔ گہرے بالوں میں یہ سفر کئی مرحلوں سے گزرتا ہے۔
ذمہ دار سیلون اسے چار سے چھ سیشن پر پھیلاتے ہیں، ہر سیشن کے درمیان چار سے چھ ہفتے کا وقفہ رکھتے ہیں تاکہ بال سنبھل سکیں، اور پورا منصوبہ چار سے آٹھ ماہ لیتا ہے۔ ایک ہی دن میں پلاٹینم کا وعدہ خطرے کی گھنٹی ہے۔
اگر آپ کے بال پہلے سے رنگے ہوئے، خاص طور پر کالے رنگے ہوئے ہیں، تو سفر اور لمبا ہو جاتا ہے کیونکہ پہلے وہ مصنوعی روغن اتارنا پڑتا ہے، جو اکثر غیر یکساں نکلتا ہے۔
پاکستان میں اس کی قیمت کیا بنتی ہے؟
ایک سیشن کے نرخ کو کل قیمت نہ سمجھیں۔ پیمانے کے لیے اسلام آباد کے بلایاژ نرخ دیکھیں: چھوٹے بالوں پر 8,000 سے 18,000، درمیانے پر 15,000 سے 30,000 اور لمبے یا گھنے بالوں پر 25,000 سے 65,000 روپے۔ پلاٹینم اس سے کم نہیں پڑتا، کیونکہ پورے سر پر بلیچ لگتا ہے۔
اسے چار سے چھ سیشن سے ضرب دیں، ہر سیشن کے ساتھ بانڈ بچانے والا علاج تقریباً 3,000 روپے شامل کریں، اور پھر مستقل خرچ جوڑیں: جڑوں کا ٹچ اپ ہر چار سے چھ ہفتے اور ٹونر ہر چھ سے آٹھ ہفتے۔ یہی وہ عدد ہے جو زیادہ تر لوگ شروع میں نہیں گنتے۔
گھر پر بھی خرچ ہے: بنفشی شیمپو، سلفیٹ سے پاک شیمپو، گہرا ماسک اور لیو اِن کنڈیشنر۔ پلاٹینم کے ساتھ یہ اختیاری نہیں رہتے۔
کن بالوں پر پلاٹینم نہیں کرنا چاہیے؟
اگر آپ کے بال پہلے سے کمزور، دو منہ والے یا حال ہی میں ری بانڈ یا کیراٹن شدہ ہیں، تو مکمل بلیچ خطرناک ہے۔ کیمیائی سیدھا کرنے اور بلیچ کا ملاپ وہ مجموعہ ہے جو سب سے زیادہ ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے۔
بہت باریک بالوں پر بھی احتیاط ضروری ہے، کیونکہ ان میں بلیچ تیزی سے اثر کرتا ہے اور نقصان کا مارجن کم ہوتا ہے۔ ایک ذمہ دار تکنیشن بلیچ سے پہلے بالوں کی مضبوطی جانچتا ہے اور ضرورت پڑنے پر منع بھی کر دیتا ہے - یہ اچھی علامت ہے۔
ایک عملی متبادل یہ ہے کہ پورے سر کے بجائے چہرے کے گرد پلاٹینم رکھا جائے یا پلاٹینم بلایاژ کیا جائے۔ اثر نمایاں رہتا ہے، نقصان اور خرچ دونوں محدود۔
پلاٹینم کو سنبھالنا روز کیسا ہوتا ہے؟
دو مستقل کام ہیں۔ پہلا جڑیں: بال ماہانہ تقریباً ایک سینٹی میٹر بڑھتے ہیں، اور گہری جڑ اور پلاٹینم لمبائی کے درمیان تضاد سب سے واضح ہوتا ہے، اس لیے ٹچ اپ ہر چار سے چھ ہفتے مانگا جاتا ہے۔
دوسرا پیلاہٹ: بلیچ شدہ بال قدرتی طور پر گرم رنگ کی طرف لوٹتے ہیں اور ٹونر چھ سے آٹھ ہفتوں میں دھل جاتا ہے۔ بنفشی شیمپو ہفتے میں ایک بار اس رجحان کو دباتا ہے، مگر زیادہ استعمال بالوں کو خاکستری کر دیتا ہے۔
ساخت کے لحاظ سے بال روئی جیسے اور آسانی سے الجھنے والے ہو جاتے ہیں۔ گیلے بالوں پر کھلے دانتوں والی کنگھی، کم گرمی اور ساٹن کا تکیہ غلاف روزمرہ کے وہ چھوٹے قدم ہیں جو سب سے زیادہ فرق ڈالتے ہیں۔
فیصلہ کرنے سے پہلے کیا کریں؟
پلاٹینم چہرے کے ساتھ سب سے زیادہ تضاد بناتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو تصویر کے بغیر اندازہ لگانا سب سے مشکل ہے۔ یہ رنگ ابرو، جلد کی رنگت اور میک اپ تینوں کے ساتھ تعلق بدل دیتا ہے۔
Visio میں اپنی سیلفی پر پلاٹینم اور ایک نرم بلونڈ ساتھ ساتھ دیکھیں، اور دونوں کو دن اور رات کی روشنی والی تصویروں پر آزمائیں۔ اگر پلاٹینم دیکھ کر آپ کو یقین آ جائے تو اگلا قدم تکنیشن سے بالوں کی مضبوطی چیک کروانا اور سیشن کا منصوبہ تحریری طور پر سمجھ لینا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کالے بالوں سے پلاٹینم تک کتنا وقت لگتا ہے؟
عام منصوبہ چار سے چھ سیشن پر مشتمل ہوتا ہے، ہر ایک کے درمیان چار سے چھ ہفتے کے وقفے کے ساتھ، یعنی مجموعی طور پر چار سے آٹھ ماہ۔
پلاٹینم کے بعد جڑوں کا ٹچ اپ کب چاہیے؟
ہر چار سے چھ ہفتے، کیونکہ گہری جڑ اور پلاٹینم لمبائی کے درمیان تضاد سب سے زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
کیا کیراٹن یا ری بانڈنگ کے بعد پلاٹینم ہو سکتا ہے؟
یہ خطرناک مجموعہ ہے اور بہت سے تکنیشن اس سے منع کرتے ہیں۔ کیمیائی سیدھا کرنے کے بعد بلیچ ٹوٹنے کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔
بنفشی شیمپو کتنی بار استعمال کرنا چاہیے؟
عام طور پر ہفتے میں ایک بار کافی ہے۔ زیادہ استعمال بالوں کو خاکستری یا نیلگوں کر دیتا ہے، جو ٹھیک ہونے میں کئی دھلائیاں لیتا ہے۔
کیا پورے سر کے بغیر پلاٹینم کا اثر ممکن ہے؟
ہاں۔ چہرے کے گرد پلاٹینم یا پلاٹینم بلایاژ نمایاں اثر دیتا ہے مگر بالوں کا کم حصہ متاثر ہوتا ہے، جس سے خرچ اور نقصان دونوں محدود رہتے ہیں۔

