بھورے کے کون سے شیڈ عام ہیں؟
چاکلیٹ براؤن گہرا اور نیم گرم ہے، اور قدرتی کالے بالوں سے صرف ایک دو درجے ہلکا ہونے کی وجہ سے سب سے آسان تبدیلی ہے۔ کاراملی براؤن اس سے ہلکا اور واضح طور پر گرم ہے، جو زیادہ تر پاکستانی رنگتوں پر گرمجوشی لاتا ہے۔
شہد جیسا بھورا اور سنہری بھورا سب سے ہلکے درجے ہیں اور ان کے لیے عام طور پر ہلکا بلیچ یا ہائی لفٹ رنگ درکار ہوتا ہے۔ دوسری طرف راکھی یا ٹھنڈا بھورا ہے، جو گلابی جھلک والی جلد پر صاف بیٹھتا ہے مگر سنہری رنگت پر بے جان لگ سکتا ہے۔
اگر آپ کو یقین نہ ہو تو ایک درجہ ہلکا چاکلیٹ سے شروع کریں۔ یہ سب سے کم خطرہ ہے اور جڑیں بڑھنے پر لکیر تقریباً نظر نہیں آتی۔
بھورے رنگ پر پاکستان میں کتنا خرچ آتا ہے؟
چونکہ زیادہ تر بھورے شیڈ بغیر بھاری بلیچ کے ممکن ہیں، یہ نسبتاً سستا رہتا ہے۔ کراچی کے شائع شدہ سیلون نرخوں میں رنگ کی خدمات 4,000 روپے سے شروع ہوتی ہیں؛ فریشا پر درج کراچی کے سیلونوں میں پریمیم لوریال ڈائی تقریباً 3,500 روپے اور ایک رنگ کی ڈائی 4,000 روپے ہے۔
اگر آپ شہد جیسے یا سنہری بھورے کی طرف جا رہی ہیں تو بلیچ شامل ہو جاتا ہے اور قیمت اوپر جاتی ہے؛ کراچی میں کلر ری ٹچ اور اومبرے جیسی خدمات کے لیے 3,500 سے 20,000 روپے کی حد عام ہے۔ لمبائی اور گھنائی ہمیشہ حتمی قیمت طے کرتی ہیں۔
دیکھ بھال کا خرچ کم ہے، اور یہی بھورے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ جڑوں کا ٹچ اپ ہر چار سے چھ ہفتے مانگا جاتا ہے، مگر چونکہ رنگ قدرتی سے قریب ہے، بہت سے لوگ اسے آٹھ دس ہفتے تک آرام سے کھینچ لیتے ہیں۔
کون سا بھورا آپ کی رنگت پر جچے گا؟
سادہ اصول یہ ہے کہ جلد کی جھلک کے الٹ نہ جائیں۔ اگر آپ کی جلد میں سنہری یا زیتونی جھلک ہے تو کاراملی، شہد جیسا اور چاکلیٹ براؤن قدرتی لگتے ہیں۔ گلابی جھلک والی جلد پر راکھی بھورا اور ٹھنڈا چاکلیٹ زیادہ صاف بیٹھتے ہیں۔
دوسرا نکتہ آنکھوں کا ہے: گہری بھوری آنکھوں کے ساتھ گرم بھورے شیڈ آنکھوں کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ ٹھنڈے شیڈ تضاد بڑھاتے ہیں۔ یہ ذاتی پسند کا معاملہ ہے، مگر یہ جاننا مفید ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔
تیسری بات میک اپ کی ہے۔ رنگ بدلنے کے بعد جو لپ اسٹک پہلے اچھی لگتی تھی وہ اچانک بھاری یا پھیکی لگ سکتی ہے۔ اسی لیے شیڈ کا فیصلہ اپنے چہرے کی تصویر پر کرنا زیادہ محفوظ ہے۔
بھورا رنگ دھلتا کیوں ہے؟
بھورے رنگ، خاص طور پر ٹھنڈے اور راکھی شیڈ، وقت کے ساتھ گرم ہوتے جاتے ہیں۔ کچھ ہفتوں بعد چاکلیٹ سرخی مائل اور راکھی بھورا نارنجی کی طرف مائل نظر آنے لگتا ہے۔ یہ ناکامی نہیں، رنگ کے دھلنے کا قدرتی انداز ہے۔
اسے سست کرنے کے لیے تین چیزیں کام آتی ہیں: سلفیٹ سے پاک شیمپو، ٹھنڈا پانی، اور دھوپ سے بچاؤ۔ ٹھنڈے شیڈ رکھنے والوں کے لیے نیلے یا بنفشی ٹون والا شیمپو ہر دو تین ہفتے میں ایک بار مفید رہتا ہے۔
ایک اور عام غلطی گرم پانی سے لمبی دھلائی ہے، جو رنگ کو جلدی نکالتی ہے۔ کم دفعہ دھونا نہ صرف رنگ بلکہ بالوں کی حالت کے لیے بھی بہتر ہے۔
رنگ لگوانے سے پہلے کیا دیکھ لیں؟
بھورا نسبتاً محفوظ ہے، مگر شیڈ کی غلطی یہاں بھی مہنگی پڑ سکتی ہے: ٹھنڈا راکھی بھورا سنہری رنگت پر بیمار سا تاثر دے سکتا ہے، اور بہت گرم کاراملی گلابی رنگت پر سرخ نظر آتا ہے۔
Visio میں اپنی سیلفی پر چاکلیٹ، کاراملی اور راکھی بھورا ساتھ ساتھ لگا کر دیکھیں، اور ایک تصویر کھڑکی کی روشنی میں اور ایک کمرے کی پیلی روشنی میں آزمائیں۔ منتخب شیڈ سیلون میں دکھا دیں تاکہ گفتگو الفاظ کے بجائے تصویر پر ہو۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا بھورے رنگ کے لیے بلیچ ضروری ہے؟
گہرے اور درمیانے بھورے شیڈ کے لیے عام طور پر نہیں۔ شہد جیسے یا سنہری بھورے تک پہنچنے کے لیے ہلکا بلیچ یا ہائی لفٹ رنگ درکار ہوتا ہے، جس سے قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔
بھورے بالوں کا ٹچ اپ کب کروانا چاہیے؟
عام سفارش ہر چار سے چھ ہفتے ہے، مگر چونکہ بھورا قدرتی رنگ کے قریب ہوتا ہے، کئی لوگ آٹھ سے دس ہفتے تک بھی آرام سے گزار لیتے ہیں۔
چاکلیٹ براؤن سرخ کیوں لگنے لگتا ہے؟
دھلائی اور دھوپ سے مصنوعی روغن ٹوٹتا ہے اور نیچے موجود گرم رنگ ظاہر ہو جاتے ہیں۔ نیلے ٹون والا شیمپو اور ٹھنڈے پانی سے دھلائی اس رجحان کو دباتی ہے۔
سانولی رنگت پر کون سا بھورا اچھا لگتا ہے؟
گرم شیڈ عام طور پر زیادہ قدرتی لگتے ہیں - کاراملی، چاکلیٹ اور شہد جیسا بھورا۔ ٹھنڈے راکھی شیڈ زیادہ نمایاں تضاد بناتے ہیں اور ہر رنگت پر یکساں نہیں جچتے۔
کیا بھورے سے واپس کالے پر جانا آسان ہے؟
ہاں، گہرا رنگ چڑھانا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ الٹا راستہ - کالے سے بھورا - مشکل ہے کیونکہ اس کے لیے پہلے سے موجود روغن اتارنا پڑتا ہے۔

